دیوانہ پن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہوش و ہواس گم ہو جانے کا عالم، مجنوں یا پاگل ہونے کی کیفیت، بدحواسی، جنون، سودا، وحشت۔ "تم تو پڑھ لکھ کر دیوانے پن کی باتیں کرنے لگے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٩٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'دیوانہ' کے ساتھ 'پَن' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٥٥ء سے "دیوان یقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہوش و ہواس گم ہو جانے کا عالم، مجنوں یا پاگل ہونے کی کیفیت، بدحواسی، جنون، سودا، وحشت۔ "تم تو پڑھ لکھ کر دیوانے پن کی باتیں کرنے لگے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٩٠ )

جنس: مذکر